Like Our Facebook Page

New Poets Added

Poets Directory

Latest Poetry

Your Poetry

Dasny Lagy Hain Khawab Magr Kis Se Bolieyy (Parveen Shakir)

Make This Poetry Your Favorite

ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولئے میں جانتی تھی پال رہی ہوں سنپولیے بس یہ ہوا کہ اس نے تکلف سے بات کی اور ہم نے روتے روتے دوپٹے بھگو لیے پلکوں پہ کچی نیندوں کا رس پھیلتا ہو جب ایسے میں آنکھ دھوپ کے رخ کیسے کھولیے تیری برہنہ پائی کے دکھ بانٹتے ہوئے ہم نے خود اپنے پاؤں میں کانٹے چبھو لیے میں تیرا نام لے کے تذبذب میں پڑ گئی سب لوگ اپنے اپنے عزیزوں کو رو لیے خوش بو کہیں نہ جائے پہ اصرار ہے بہت اور یہ بھی آرزو کہ ذرا زلف کھولیے تصویر جب نئی ہے نیا کینوس بھی ہے پھر طشتری میں رنگ پرانے نہ گھولیے

Comment Box is loading comments...

More Poetry Of Parveen Shakir