تازہ ترین

News Detail

نامعلوم افراد ٹو پرایک نظر

۔ فلم میں فہد مصطفی،محسن عباس حیدر، جاوید شیخ،نیر اعجاز، عروہ حسین ،ہانیہ عامر ، سلیم معراج اورٹی وی کی منجھی ہوئی اداکارہ مرینہ خان نمایاں ہیں۔ پہلی فلم میں بینک کی لوٹی ہوئی دولت فلم کے تینوں مرکزی کردار وں کے پاس گھومتی گھماتی پہنچ جاتی ہے جسے وہ آپس میں بانٹ لیتے ہیں ۔شکیل بھائی(جاوید شیخ) ،فرحان(فہد مصطفی)ان پیسوں سے اچار کا کاروبار کرتے ہیں جبکہ مون((محسن عباس حیدر) دنیا کی سیر کو نکل جاتا ہے۔ پارٹ ٹوکا آغاز پہلی فلم کے اختتام سے جوڑا گیا ہے ۔فلم کے شروع ہی میں دکھایا جاتا ہے کہ کامیاب بزنس اور دولت کی ریل پیل کا انجام وہی ہوتا ہے جو اکثر کراچی میں ہوتا آیا ہے ،یعنی جانے پہچانے نا معلوم افراد کی طرف سے بھتے کی پرچی فرحان اور شکیل بھائی کو ملتی ہے۔ بھتہ اور اس کا انتظام نہ کرنے پر جس ”آشنا آواز“ کادھمکی آمیز فون آتا ہے۔ اس آواز سے فلم بینوں کا نہ رکنے ولا پہلا قہقہہ فضا میں بلند ہوتا ہے ۔بھتہ نہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگا دی جاتی ہے ۔ شکیل بھائی ،فرحان اور اس کی بیوی نیناں (عروہ حسین) سڑک پر آ جاتے ہیں اور ایک زیر تعمیرعمارت میں رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔اسی دوران مون اپنی شادی میں شرکت کے لئے انہیں اپنے پاس جنوبی افریقہ کے خوبصورت شہر کیپ ٹاﺅن بلا تا ہے۔جہاں اس کی شادی خوبصورت اداکارہ ہانیہ عامر سے ہونے والی ہوتی ہے۔سب کیپ ٹاﺅن پہنچتے ہیں۔ فلم کے اس حصے میں ایک جاندار کردار عرب شیخ البکلاوا کی زبردست اینٹری کیپ ٹاﺅن ہیں ہوتی ہے۔ اس کردار کو سینئر اداکار نیئر اعجاز نے بخوبی ادا کیا۔خاص کر سونے کا کموڈ گم ہونے پر غصے میں نئیر اعجاز کا عربی زبان میں پولیس سے بات کرنے والے منظر کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔شیخ البکلاوا اپنی امارت کا مظاہرہ کیپ ٹاﺅن کی سڑکوں پر سونے کے کموڈ کی نمائش سے کرتا ہے۔ جس میں اس سے بھی زیادہ قیمتی ہیرے چھپائے ہوتے ہیں۔ سونے کا کموڈ انجانے میں تینوں مرکزی کرداروں کے ہاتھ لگ جاتا ہے جس کے بعد انہیں سمجھ نہیں آتی کہ اس کا کیا کیا جائے۔اسی کشمکش میں عرب شیخ، کیپ ٹاﺅن کی پولیس اور دوغنڈوں کے درمیان کھینچا تانی شروع ہو جاتی ہے۔غنڈوں کا کردار سلیم معراج اورنذالحسن نے نہایت عمدہ طریقے سے ادا کیا۔اس فلم کا انجام بھی پہلی فلم کی طرح ہے،یعنی ہیرے گھوم پھر کے تینوں مرکزی کرداروں کے پاس پہنچ جاتے ہیں اورمون کی شادی ہو جاتی ہے۔فلم ہر طرح کے مسالے سے بھرپورہے۔بطور ہدایتکار نبیل قریشی کی یہ تیسری فلم ہے۔تینوں فلموں نے نبیل قریشی کو کمرشل سینما کی نبض سے بخوبی واقف کر دیا ہے۔فلم کی کہانی کے مطابق پولیس اور ویلن پارٹی کے درمیان ہونے والی گن شوٹینگ کے مناظر نے دیکھنے والوں کے دل جیت لئے۔قابل تعریف بات یہ ہے کہ فلم کو خامخواہ طویل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔فلم میں مزاح کا تڑکا لگانے کے لئے اس میں چھوٹے چھوٹے عام فہم مزاحیہ ڈائیلاگز نے فلم بینوں کو کھل کر ہنسنے کے عمدہ مواقع دیے۔ نامعلوم افراد ٹو ایک اچھی اور کامیاب فلم ہے اسی لئے اس کی ٹیم نے اس سلسلے کی تیسری فلم کے بارے میں ابھی سے سوچنا شروع کر دیا ہے۔ فلم کا اگر تنقیدی جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا بجا ہو گا کہ بہترین عکاسی اور ساونڈ پر بھرپور توجہ دینے کے باوجود اس میں چند بنیادی خامیاں بھی تھیں۔ ایک بہتر فلم ساز اپنی فلم میں ہیرو ، ہیروین ، ویلن اور دوسرے مرکزی کرداروں کی اینٹری پر بہت دھیان دیتے ہیں۔ہالی ووڈ ہو یا بالی ووڈان کی فلموں میں مرکزی کرداروں کی اینٹری فلم میں جان ڈال دیتی ہے ۔مزکورہ فلم کے ہدایتکار نبیل قریشی سمیت ہمارے بہت سے فلم ساز اس اہم نقطے کو سرے سے نظر انداز کر دیتے ہیں جو کہ تکنیکی اعتبار سے بہت بڑی خامی سمجھی جاتی ہے۔نامعلوم افراد ٹو میں بھی ہمیں فلم کے ہیروفہد مصطفی اور ہیروئن عروہ حسین اور ڈریم گرل ہانیہ عامر کی اینٹری پر خاصی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ فلم میں صدف کنول پر پکچرائز ہوئے آئٹم سانگ کے علاوہ تمام گانوں کی زبردستی جگہ بنائی گئی، حالانکہ فلم کا اہم کردار مون کیپ ٹاﺅن کے کلب میں مشہور ڈی جے ہوتا ہے۔فلم میں جب فہد مصطفی کہتاہے کہ مون کہاں ہے تو اس وقت اس کی اینٹری پرشوخ سے گانے کی خاصی کمی محسوس ہوئی۔فلم کے شروع میں جب فرحان ،شکیل بھائی اور نیناں جس زیر تعمیر عمارت میں رہتے ہیں اس میں گھر کا سامان اور کچن کو قرینے سے سجایا گیا ۔حالانکہ وہاں اس صفائی اور ترتیب کی نہیں بلکہ سارے سامان کو الٹا سیدھا رکھا دےکھایا جاتا تو فلم بینوں کو فلم کا وہ حصہ نیچرل لگتا۔وہاں آرٹ ڈائریکٹر کے کام کا فقدان نظر آیا۔ فہد مصطفی ایک نیچرل اداکار ہونے کے باوجود فلم میں سینئرز نے اپنی اداکاری سے فہد سمیت تمام جونئرز کو پیچھے چھوڑ دیا۔اپنی منفرد اداکاری کے جوہردےکھاتے ہوئے نیئر اعجاز اور جاوید شیخ پوری فلم پر چھائے رہے ۔ اسی طرح غنڈے کے کردار میں سلیم معراج نے بھی خوب داد وصول کی۔عروہ حسین کو ہانیہ عامر نے اپنے چھوٹے کردار کے باوجود لاجواب اداکاری سے پیچھے چھوڑ دیا۔ہانیہ عامر کی کام میں لگن دیکھ کر لگتا ہے کہ ان کا شمار بہت جلد پاکستان فلم انڈسٹری کی صف اول کی اداکارہ میں ہو گا۔ تمام تر خامیوں کے باوجود ایک بات خوش آئند ہے کہ آنے والی ہرنئی فلم، فلم بینوں کو گھروں سے سینما گھروں میں دوبارہ کھینچ لانے میں کامیاب ہو رہی ہے۔

Comment Box is loading comments...

Make up Tip of the day

Using Small plates are Helping lose belly fat

Cooking Tip of the day

Aaloo Chaps (Potato Chaps)