تازہ ترین

News Detail

کے پی کے میں جماعت اسلامی پی ٹی آئی تنازعہ۔

کس موڑ پر جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے درمیان خیبر پختونخواہ میں حکومتی امور پر مسائل سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ خیبر بنک کے صدر ک ہٹانے پر جماعت اسلامی نے ایک سخت موقف اپنا یا ہے۔ اور امید یہی ہے کہ تحریک انصاف ان کے دبائو میں آجائے گی۔ کیونکہ اس وقت کے پی کے کی تحریک انصاف کی حکومت صرف اور صرف جماعت اسلامی کے ووٹوں پر کھڑی ہے۔ لیکن سیاست عجیب کھیل ہے شاید وہ وقت گزر گیا ہے جب تحریک انصاف جماعت اسلامی کے دبائو میں آجاتی۔کیونکہ اب خود تحریک انصاف کو اپنی حکومت کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ وہ اس لئے دبائو نہیں لے رہی ۔ جب تحریک انصاف کو اپنی حکومت عزیز تھی تو انہوں نے شیر پائو کو واپس اپنی حکومت میں شامل کر لیا تھا۔ حالانکہ یہ وہی شیر پائو تھے جنہیں پہلے کرپشن کے الزمات لگا کر حکومت سے نکالا گیا تھا۔ یہاں یہ امربھی قابل ذکر ہے کہ پہلے جب نکالاتھاتب بھی تحریک انصاف حکومت چلانے میں سنجیدہ نہیں تھی۔ اور درمیان میں جب دوبارہ حکومت چلانے میں سنجیدگی ہوئی تو شیر پائو کو گھر سے جا کر دوبارہ منا لیا گیا۔ اور اب پھر جب حکومت چلانے میں سنجیدگی نہیں ہے شیر پائو کو لات مار دی گئی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ شیر پائو ہر بار تحریک انصاف کے مقاصد کے لئے استعمال ہوئے ہیں۔ اور جب ان کی ضرورت ختم ہو گئی ان کی چھٹی کروا دی گئی ہے۔ جب میں یہ کہہ رہا ہوں کہ تحریک انصاف اس وقت کے پی کے کی حکومت چلانے میں سنجیدہ نہیں ہے بلکہ اس سے جان چھڑانے کے طریقے ڈھونڈ رہی ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ جب شیر پائو کو منتیں کر کے واپس شامل کیا گیا تھا تو محترم سراج الحق نے تحریک انصاف سے پوچھا کہ پہلے آپ نے کرپشن کے الزما ت لگا کر شیر پائو کی جماعت کو نکال دیا۔ اب ان کو منانے ان کے گھر کے چکر لگا رہے ہیں۔ چکر کیا ہے۔ تو پرویز خٹک کا موقف تھا کہ تحریک انصاف میں اتنی بغاوت ہو چکی ہے کہ صوبائی اسمبلی سے بجٹ اور دیگر قانون سازی منظور کروانے کے لئے شیر پائو کے ووٹوں کی ضرورت ہے۔ تحریک انصاف کے باغی ارکان اگر خلاف ووٹ نہیں ڈالتے تو حق میں ووٹ ڈالنے کے لئے بھی نہیں آتے۔ اس لئے شیر پائو کی ضرورت ہے۔ لیکن صورتحال اب بھی یہی ہے کہ تحریک انصاف میں بغاوت ختم نہیں ہوئی۔ یہ صرف کے پی کے ہی ہے جہاں لوگ تحریک انصاف چھوڑ رہے ہیں۔ ایک صوبائی وزیر کی پیپلزپارٹی میں شمولیت اس کی ایک تازہ مثال ہے۔ عائشہ گلا لئی بھی کے پی کے سے ہی ہیں۔ لیکن پھر بھی شیر پائو کی چھٹی کروا دی گئی۔ جماعت اسلامی کی بات نہیں مانی جا رہی۔ یہ سب باتیں ظاہر کر رہی ہیں کہ تحریک انصاف خود ہی اب یہ چاہتی ہے کہ اگر ان سے حکومت چھین بھی لی جائے تو کوئی فکر کی بات نہیں۔ اب ذرا جماعت اسلامی کی پوزیشن دیکھ لیں۔ خیبر بنک کے صدر نے اپنی حکومت کے ہی وزیر خزانہ جن کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے کہ خلاف کرپشن کا اشتہار دے دیا۔ ہونا تو یہی چاہئے تھا کہ جماعت اسلامی اس اشتہار کی اشاعت کے فورا بعد حکومت سے علیحدہ ہوجاتی لیکن جماعت اسلامی میں جو لوگ حکومت سے چمٹے رہنے کے حق میں تھے انہوں نے یہ رائے دی کہاس طرح حکومت سے الگ ہوجانے سے داغ تو نہیں دھل جائے گا۔اس لئے پہلے اس داغ کو دھو لیں ۔ اور اس طرح داغ دھونے کی کوشش میں جماعت اسلامی حکومت سے چمٹی رہی۔ اب شیر پائو کے جانے کے بعد جماعت اسلامی کو یہ خیال ہوا کہ اب شاید داغ دھونے کا بہترین وقت ہے۔ لیکن شاید ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ تحریک انصاف کا اپنا گیم پلان ہے۔ میرے خیال میں جماعت اسلامی نے آج جو موقف اپنا یا ہے۔ یہ موقف انہیں شیر پائو کی موجودگی میں لینا چاہئے تھا۔ ایک تو وقت بہتر تھا۔ دوسرا شیر پائو بہر حال جماعت اسلامی سے بہتر سیاسی کھلاڑی ہیں۔ ان کو سیاسی چال بھی جماعت اسلامی سے بہتر چلنی آتی ہے۔ جماعت اسلامی تو سیاسی طور پر خود بند گلی میں کھڑی ہے۔ وہ نواز شریف کی ن لیگ کے ساتھ نہیں جا سکتے۔ ایسے میں وہ کے پی کے میں کوئی تبدیلی لانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ جبکہ شیر پائو کی ایسی کوئی مجبوری نہیں تھی۔ ہر طرف جا سکتے ہیں۔ دوسرا سیاسی جماعتیں یہ بھی سمجھتی ہیں کہ اب کے پی کے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا کوئی سیاسی فائدہ نہیں ہے۔ بلکہ الٹا اس سے تحریک انصاف کو فائدہ ہو گا۔ اگر اس موقع پر تحریک انصاف کی حکومت ختم کی گئی تو وہ سیاسی شہید بن جائے گی۔ بری حکومت کے سارے داغ دھل جائیں گے۔ کوئی یہ نہیں پوچھے گا کہ تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی بری تھی بلکہ سوال یہ ہو گا کہ انہیں مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔ اس لئے اب چھ ماہ کے لئے کوئی بھی کے پی کے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے حق میں نہیں۔ آپ مانیں گے کہ اس وقت مولانا فضل الرحمٰن بھی کے پی کے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے حق میں نہیںہیں۔ جماعت اسلامی کی جانب سے تحریک انصاف سے ناراضگی کے واضح اعلان کے بعد بھی مولانا فضل الرحمٰن نے جماعت اسلامی سے رابطہ نہیں کیا۔ امیر مقام نے بھی کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ ایسے میں جماعت اسلامی کے پاس بھی کوئی آپشن نہیں ہے۔ کہ وہ تحریک انصاف کی حکومت سے جڑی رہے۔ داغ دھلے یا نہ دھلے۔ ویسے تو جماعت اسلامی کے وزرا ہی تحریک انصاف کی حکومت سے علیحدگی جیسے انتہائی اقدام کے لئے تیار نہیں ہیں۔ وہ خود ہی درمیانے راستہ کے لئے کوشاں ہیں۔ مشکل تو یہ ہے کے تحریک انصاف انہیں درمیانہ راستہ دینے کے لئے بھی تیار نہیں ہے۔ لیکن اگر فرض کر لیا جائے کہ جماعت اسلامی حکومت چھوڑنے کا یک طرفہ اعلان کر دیتی ہے ۔ تب کیا ہو گا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جماعت اسلامی کوئی سیاسی سکور کرنے میںکامیاب نہیں ہو گی۔ بلکہ عمران خان یہی چاہتے ہیں کہ جماعت اسلامی ایسے ہی کرے۔جماعت اسلامی ایک ایسے منجھدار میں ہے کہ جہاں وہ اپنے حق کے لئے کچھ کرے تب بھی مرتی ہے نہیں کرتی تب بھی مرتی ہے۔ اور اس بات کی اگر جماعت ا سلامی کو سمجھ نہیں بھی ہے تو مولانا فضل الرحمٰن اور امیر مقام کو سمجھ ہے۔ ان کے خیال میں جو حکومت ڈینگی سے مر رہی ہے اس کو ویسے مارنے کی کیا ضرورت ہے۔ جہاں تک خیبر بنک کے صدر کا تعلق ہے تو فی الحال تحریک انصاف کی پالیسی معاملہ کو لٹکانے کی ہے ۔ مجھے کوئی حیرانی نہیں ہو گی کہ اگر تحریک انصاف خود ہی اعلان کر دے کہ ہم خیبر بنک کے صدر کو نہیں ہٹا رہے۔ جماعت اسلامی نے جو کرنا ہے کر لے۔ لیکن دوسری طرف تحریک انصاف کے لئے بھی ایک ہی مشکل ہے۔ وہ اگلے انتخابات کا منظر نامہ ہے۔ تحریک انصاف کونظر آرہا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں اگلا انتخاب ان کے لئے آسان نہیں ہے۔ وہ جماعت اسلامی سے محدود سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے خواہاں ہے۔ جو صرف کے پی کے کی حد تک محدود ہے۔ وہ پنجاب میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لئے تیار نہیں۔ دوسری طرف جماعت اسلامی کے پاس ایم ایم اے بنانے کی بھی آپشن ہے۔ وہ تحریک انصاف کے ساتھ صرف کے پی کے کی حد تک ایڈجسٹمنٹ کے حق میں نہیں۔ ان کے لئے پھر ایم ایم اے بہتر آپشن ہے۔ کے پی کے کا یہ منظر نامہ دلچسپ ہے۔ لیکن اگر تحریک انصاف کسی وقتی فائدے میں لگ رہی ہے تو یہ دیر پا نہیں۔ کیونکہ تحریک انصاف نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ جو غلاموں کی طرح کا سلوک کیا ہے اس کی فصل کاٹنے کا بھی وقت آنے والا ہے۔ صورتحال کی کچھ کچھ سمجھ جماعت اسلامی کو بھی ہے۔ اسی لئے وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم وزارتیں چھوڑ دیں گے حکومت سے علیحدہ ہو جائیں گے لیکن تحریک انصاف کی حکومت نہیں گرنے دیں گے۔ ضرور ت پڑنے پر علیحدگی کے بعد بھی اعتماد کا ووٹ بھی دے دیا جائیگا۔ تا کہ حکومت نہ گرے۔ لیکن یہ بھی ہو سکتا کہ تحریک انصاف یہ اعتماد کا ووٹ لینے کی بجائے خود ہی اپنی حکومت ختم کر دے۔ لیکن پرویز خٹک اس کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اور وہ ہی اس کا راستہ روک سکتے ہیں۔

Comment Box is loading comments...

Make up Tip of the day

Using Small plates are Helping lose belly fat

Cooking Tip of the day

Aaloo Chaps (Potato Chaps)