تازہ ترین

News Detail

عافیہ صدیقی سے ملالہ ہوسفزئی تک (انجئنیر لبیب)

عافیہ صدیقی سے ملالہ ہوسفزئی تک (انجئنیر لبیب)

ایک ہیرو اور دو ہیرونیں: ہیرو اور ہیروئن کاذکرہو تو انسان کی سوچ فلموں کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔پہلے بااثر آدمی بنیے کے لیے اپ کو فلموں اور ڈراموں کے خواب دیکھنے پڑتے ۔لیکن آج کل سوشل میڈیاکازمانہ ہے۔آپ چاہے تو راتوں رات مشہور اور بااثر آدمی بن سکتے ہیں۔اور اس سے بڑھ کر آپ اکسفورڈڈکشنری کاحصہ بن سکتے ہیں۔جیسے کچھ عرصہ پہلے ایک ہیرو کوعوام کے گاڑیوں کو کباڑبناتے دیکھا تو کیمرے کی انکھ نے اس کو محفوظ کیا تواس کارنامے پراس کو میڈیاپر بہت پزیرائی ملی اور آخر کاراس کومختلف معنی و مفہوم کیساتھ ڈکشنری کاحصہ بنایاگیا۔اس ہیرو کا نام گلوبٹ تھا۔لیکن بعض دفعہ اس میں بہت باریکیا ں اورنیشنل اور انٹرنیشنل مقاصد چھپے ہوتے ہیں جسے ہم نے ہلکا نہیں لینا بلکہ گہرائی تک پہنچناہے ۔گلو بٹ کے مقاصد اور انجام کیاتھے؟وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔۔۔۔۔

اپنے کردار سے دلوں کے انجماد میں سیماب کا اضطراب برپاکرنے والی ایک ہیروئن جواپنے معصومیت اور کم عمری کی وجہ سے سب کی فیضان نظر رہی ۔وہ ملالہ یوسف زئی کے نام سے مشہور ہوئی۔اس نے نہایت جرات مندی اور ہوشمندی سے اپنے کردار کو نبھاکر،اپنے جان پرکھیل کراورولن(طالبان) کے ہاتھوں سے گولیوں سے اپنے اپ کو چھیلنی کر کے ہیرو کادل جیتا۔تب ہیرو آ کے اور اس کوعلاج کے بہانے ملک سے دور لے جا کر، اپنے گود میں بٹھا کر اور انعامات،ڈالروں اور ایوارڈوں کی بارش پرساکر رومانس کا ماحول بنایا۔۔۔۔۔۔

ملالہ کا مرکزی کردار یہ تھا کہ اس نے اپنی جیسی حوا کی بیٹیوں کی تعلیم اور آزادی کی بات اور ولن یعنی طالبان:ڈاڑھی بگڑی والوں کے خلاف قلم کا استعال کرناہے۔اس کے خلاف پروپیگنڈہ اور اپنی فکرونظر کی موتی بکھیرنا ہیں ۔بلکہ بکھیرنا تو ہیرو کا کام ہے۔بس سکرین پراپنا معصومانہ چہرہ دکھاناتھا ۔اپنے اس کردار سے وہ ہیرو کادل تو جیت سکی لیکن اس کے بدلے اس کو ولن کی غضب ناکی برداشت کرنا پڑی۔۔۔۔۔۔

اس کے برعکس کردار ادا کرنے والی ہیروئن جو ہیرو کے معیار پرتو نہ اترے لیکن اس کے باوجود وہ عوام کی اندر سماوی رفعتوں کو چھونے لگی۔اپنے اس کردار کی وجہ سے قیدوبندکی سختیاں برداشت کرنی والی ہیروئن کانام عافیہ صدیقی ہے۔جس نے اپنے کردار میں ملالہ کے برعکس ڈاڑھی بگری والوں کی نظام حکومت کو ایک اچھا نظام کہا اور اس کی تعریف کی۔تو اس کو اس کردار کی وجہ سے دنیاکی سب سے بڑے دہشت گرد کا تعویذ گلے میں لٹکاکرسلاخوں کے پیچھے بھیج دیا۔ اس دونوں کردار وں میں ہیرو ایک تھالیکن وہ بہت مکاری سے پس پردہ اپنا کردار ادا کرتا رہا اور اپنے اشاروں سے تمام وسائل کو استعمال کرتا رہا۔ایک ہیروئن کو گود میں بٹھا کراستعمال کرتا رہا اور دوسری کو جیل بھیج کرنشان عبرت بنایا۔اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ ملالہ ہیرو کے گود میں پناہ لیتی ہوئی،نوبل برائزاور ایورڈ پے ایورڈ کو سمیٹتی ہوئی اور میڈیا کے زور سے راتوں رات مشہور ہونے کے باوجودکیالوگوں کے دل جیت سکی؟ ہا ں اس با ت کا انکار کوئی نہیں کرسکتا کہ اس نے اپنے کردار نبھانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔اپنی جان تک داؤ پر لگا دیا یہ اس قربانی کا نتیجہ تھاکہ اس کا ڈرامہ بہت مشہور ہوا اور اس کی توسط سے اس نے بہت کچھ پایا ۔۔۔۔۔۔

اس کے بر عکس عافیہ کا ڈرامہ فلاپ ضرور ہو ااور وہ ہیرو کا دل بھی نہ جیت سکی لیکن پھر بھی عوام کے دلی ہمدردیاں سمیٹے میں کامیاب ہوئی۔ دونوں ہیروئن کاکردار، اس کے بدلے میں ان کو کیا کیا ملا اور اس کا اختتام کیاہوا،ساری داستان ہمارے سامنے ہیں۔ابھی حوا کی معصوم بیٹیوں کے لیے ایک معیار رکھ دیا گیاکہ اگراپ ملالہ بنوگی توشاہی محلات میں عیاشی کی تمام چیزیں اپ کے قدموں میں ہوگی۔اگر اپ نے عافیہ صدیقی کا راستہ اپنایا تو حال وہی ہوگا جو عافیہ جھیل رہی ہے۔

Comment Box is loading comments...

Make up Tip of the day

Using Small plates are Helping lose belly fat

Cooking Tip of the day

Aaloo Chaps (Potato Chaps)