تازہ ترین

News Detail

خیبر پختونخوا میں حکمران اتحاد میں

خیبر پختونخوا میں حکمران اتحاد میں شامل تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے مابین بینک آف خیبر میگا سکینڈل معاملے پر خلیج بڑھ گئی خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں اور وزیر خزانہ نے خیبر بینک سکینڈل کی تحقیقات کیلئے بننے والی سابق کمیٹی کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے ایوان میں پارلیمانی جماعتوں پر مشتمل سپیشل کمیٹی تشکیل دیکر دوبارہ تحقیقات کرنے اور پورٹ 15 دنوں کے اندر اندر پیش کرنے کی ڈیڈ لائن دے دی وزیر خزانہ نے بینک آف خیبر کی نجکاری کا انکشاف کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ کسی صورت بینک کی نجکاری نہیں ہونے دینگے ایوان میں محکمہ خزانہ کو بے اختیار محکمہ قرار دیکر رولز آف بزنس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اختیارات محکمہ پی اینڈ ڈی کی جانب سے استعمال کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے بینک آف خیبر کی جانب سے پنجاب فوڈ اتھارٹی اور ایک اور کمپنی کو19ارب روپے قرضہ دینے اور تحریک انصاف کی سنٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے ممبر کا بینک آف خیبر میں اہم منصب پر فائز ہونے کا بھی انکشاف کیا ہے گزشتہ روز اسمبلی اجلاس کے دوران عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے تحریک التواء پیش کرتے ہوئے کہا کہ سابق دور حکومت میں بینک آف خیبر کی سالانہ آمدن 1.7ارب روپے تک پہنچ گئی تھی تاہم گزشتہ 4 سالوں کے دوران بینک آف خیبر کو3ارب روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے 4 سالوں کے دوران اہم آسامیوں پر سیاسی بنیادوں پر بینک میںایک ہزار450افراد کو بھرتی کیا گیا تحریک انصاف کی سنٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے ممبرراشد کو بینک آف خیبر میں اہم منصب پر فائز کر دیا گیا ہے جبکہ سپریم کورٹ نے راشد ے اثاثوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں بینک آف خیبر نے گزشتہ دو تین سالوں کے دوران پنجاب فوڈ اتھارٹی اور ایک اور کمپنی کو 19ارب روپے کا قرضہ دیا ہے انہوں نے کہا کہ بینک آف خیبر کے اثاثے اونے پونے داموں فروخت کئے جا رہے ہیں جبکہ بینک آف خیبر کے 5ملازمین کو بینک میںکروڑوں روپے مبینہ کرپشن کی نشاندہی مہنگی پڑ گئی اور انہیں ملازمت سے نکال دیا گیا خیبر بینک سکینڈل میں سابق چیف سیکرٹری کے ملوث ہونے پر ان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہونے والے تھے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایوان میں پارلیمانی لیڈرز پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے اور رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے تحریک التواء پر اپنا موقف پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ مظفر سید نے انکشاف کیا کہ خیبر بینک کی نجکاری کیلئے راہ ہموار کی جار ہی ہے خیبر بینک سے متعلق تمام اختیارات محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ استعمال کر رہا ہے جو صوبائی رولز آف بزنس کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اس ضمن میں محکمہ خزانہ اور محکمہ قا نون نے قانونی رائے دیتے ہوئے محکمہ پی اینڈ ڈی کو متعدد بار آگاہ بھی کیا ہے جبکہ محکمہ خزانہ نے2015ء میں سمری چیف سیکرٹری کو ارسال کی تھی کہ خیبر بینک کے اختیارات محکمہ پی اینڈ ڈی استعمال نہیں کرسکتا کیونکہ یہ رولز آف بزنس کی خلاف ورزی ہے تاہم محکمہ خزانہ کی ارسال کردہ سمری2سالوں سے چیف سیکرٹری آفس میں پڑی ہوئی ہے اور اس پر ابھی تک عملدرآمد نہیں کیا گیا وزیر اعلیٰ اس کی تحقیقات کرے رولز آف بزنس کے مطابق بینک آف خیبر کے بورڈ میں حکومتی نمائندہ نامزد کرنے کا اختیارمحکمہ خزانہ کے پاس ہوتا ہے مگر پی اینڈ ڈی مسلسل اس میں روڑے اٹکا رہا ہے اور مسلسل بورڈ چیئرمین کا اعلامیہ پی اینڈ ڈی جاری کر رہا ہے جس کو محکمہ قانون بھی غلط قرار دے چکا ہے وزیر خزانہ نے ایوان میں انکشاف کیا کہ کسی کے ایما پر بینک آف خیبر کے منیجنگ ڈائریکٹر(ایم ڈی)نے ان کے اوپر الزامات لگائے صوبائی کابینہ کی کمیٹی نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قراردیا ہے اتحادی حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے اور بار بار اصرار کے باوجود تحریک انصاف نے کابینہ کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش نہیں کی اور نہ ہی اس پر عملدرآمد کیا ایم ڈی بینک آف خیبر کی تقرری ایک ایسے وقت میں کی گئی جب وہ وزیر خزانہ نہیں تھے اندرونی اور بیرونی سکروٹنی کمیٹی نے ایم ڈی بینک آف خیبر کا نام شارٹ لسٹ نہیں کیا تھا کیونکہ وہ مطلوبہ شرائط پر پورا نہیں اترتے تھے اس کے باوجود اس وقت کے ارباب اختیار نے شمس القیوم کو ایم ڈی تعینات کیا جبکہ تعیناتی کا معاملہ احتساب کمیشن میں بھی زیر گردش ہے وزیر خزانہ نے مطالبہ کیا کہ پارلیمانی لیڈرزپر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے اور بینک آف خیبر میں ہونے والی بھرتیوں اور اثاثوں کی تحقیقات کرے اور رپورٹ15دن کے اندر اندر ایوان میں پیش کی جائے انہوں نے سوالات اٹھائے کہ حکومت کی براہ راست نگرانی کے باوجود نااہل ایم ڈی کی تقرر کیسے کیا گیا؟ ان کے خلاف اخبارات میں اشتہارات اور معافی نامے شائع کروا کر ادائیگی کہاں سے کی گئی؟ اور اگر بینک سے کی گئی ہے تو اس پر اس کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی گئی؟ ایم ڈی نے گزشتہ سال بینک کے سینئر ترین افراد سے زبردستی استعفیٰ کیوں لیا؟ سینئر ترین ایچ آر کے ہیڈ کو گھر بٹھا کر ایک ایسے فرد کو ایچ آر بٹھایا گیا جس کا ایچ آر میں ایک دن کا بھی تجربہ نہیں اس بات کی بھی تحقیقات ہونی چاہیئے کہ محکمہ پی اینڈ ڈی کیوں مسلسل رولز کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور بینک آ ف خیبر کے معاملات میں مداخلت کر رہا ہے انہوں نے انکشاف کیا کہ بینک آف خیبر کی نجکاری کیلئے راہ ہموار کی جارہی ہے اور صوبے کے اثاثے کو نجی ہاتھوں میں دیکربینک آف خیبر کا ہیڈ آفس کسی دوسرے صوبے منتقل کیا جا رہا ہے تاہم وہ بینک آف خیبر کی نجکاری نہیں ہونے دینگے بعد ازاں سپیکر نے پارلیمانی لیڈر پر مشتمل سپیشل کمیٹی تشکیل دے دی۔

Comment Box is loading comments...

Make up Tip of the day

Using Small plates are Helping lose belly fat

Cooking Tip of the day

Aaloo Chaps (Potato Chaps)