تازہ ترین

News Detail

ہمارے محافظ ہمارے قاتل

ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں تھوڑی سی غلطی اپ کی جان کی دشمن بن جائے گی اور اپ اپنے جان سے ہاتھ دھو بیٹھنگے۔ جب پاکستان پر سال دو ہزار ایک کے بعد ایک انجہانی جنگ مسلط کی گئی تو پاکستانی قوم اس کے لئے تیار نہیں تھی اور نہ ہی ہمارے پولیس کیونکہ گیارہ ستمبر سے پہلے پاکستان میں اس حد تک دہشتگردی کا نام و نشان تک نہ تھا جس کے خلاف ہماری پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے ادارے سینہ سپر ہو لیکن پھر بھی سلام ان قربانیوں کو جنھوں نے اپنی جان کے نذرانے پیش کئے اور ملک کو کافی حد تک دہشتگردی کے لپیٹ میں لینے سے بچا لیا۔ اس جنگ میں زیادہ نقصان صوبہ خیبر پختونخوا کو ہوا جس میں ہزاروں قیمتوں جانیں گئی اور ان جانوں کیساتھ پورےخاندان بھی تباہی کے دھانے پر کھڑے ہوگئے اور ان واقعات نے عوام کیساتھ ساتھ سیاستدانوں اور عوام کے محافظوں میں بھی شدید خوف و ہراس پھیلا دیا اور وہ بھی اپنے سائے سے ڈرنے لگے جو سیاستدان تھے یا افسرز نے سیکیورٹی اور پروٹوکول کے نام پر کسی حد تک خطرے کو کم کر دیا لیکن باقی ماندہ عوام اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔ حال ہی میں مردان کے شہری علاقے میں دو ایسے واقعات رونما ہوئے جس نے باشعور لوگوں کی انگلیاں پولیس کی جانب اٹھانے پر مجبور کر دیا۔پہلا واقعہ ضلعی کچہری کے عین سامنے اسوقت پیش آیا جب اولس خان نامی شخص جو سائیکل پر کپڑے بیچتا تھا پولیس کے اشارے پر نہیں رکا اور پولیس نے پہلے پکتر بند گاڑی سے اسے ٹکر ماری اور پر دہشتگردی کے شک میں اسے بیچ بازار میں گولی مار دی اور اسطرح اس سسٹم کے ڈرے ہوئے لوگوں کو سکون کا سانس لینا نصیب ہوا۔اولس خان کے دس بچے اور بیوہ ابھی تک اس انصاف کی متلاشی ہیں جس کا ملنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے کیونکہ پولیس کے اعلی افسران کے مطابق اولس خان نے ان کے گھر پر حملہ کیا تھا اور وہ ایک ذہنی مریض تھا اواز دینے پر اگر وہ نہیں رکا تو اس کے ساتھ پولیس نے گولی مار کر واقعی ایک فرض شناسی کا ثبوت دیا ہے۔ خیر یہ تو وہ باتیں ہیں جو پولیس کی جانب سے کی گئی لیکن اولس خان کے خاندان کے مطابق اگر وہ ذہنی مریض تھا تو وہ کیسے کپڑے کا کاروبار کرتا تھا، وہ کیسے اپنے پورے خاندان کی کفالت کرتا تھا؟ ہاں اسے کم سنائی دیتا تھا لیکن کم سنائی دینا اور پولیس کے گاڑی سے ٹکر مارنے کی وجہ سے ڈر کر بھاگ جانا اتنا بڑا جرم نہیں کہ اسے گولی مار دی جائے خیر یہ تو ایک قصہ تھا جو اپنے اختتام کو پہنچا اور یہاں سے ایک اور فرض شناس پولیس کا قصہ شروع ہوتا ہے جس نے ٹھیک اسی جگہ جہاں اولس خان کو گولی ماری تھی ایک حافظ قران اور علم میں تین درجے پاس کرنے والے ذہنی مریض کو اس کے والد کے سامنے دو گولیاں مار کر اس کی زندگی کا چراغ ہمیشہ کےلئے گل کر دیا۔ بلال جو مردان کے جمال گڑھی کا رہنے والا تھا اور مرگی کا مریض تھا اپنے والد کیساتھ موٹر سائیکل پر ڈاکٹر کے پاس جا رہا تھا کہ ضلعی کچہری کے سامنے اس نے موٹر سائیکل سے چھلانگ لگائی اور وہاں پر کھڑے ٹریفک وارڈن سعید سے الجھ پڑا جس نے طیش میں آکر ہوائی فائرنگ کی جس پر بلال نے ڈر کر بھاگنے کی کوشش کی اور بلال کے والد کی ٹریفک وارڈن کی منت سماجت کے باوجود بھی اس نے بلال کو دو گولیاں ماری اور شہید کر دیا۔ اب ان دونوں واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک سوال جو ذہن میں اٹھتا ہے کہ کیا اب قانون کے رکھوالے عدم برداشت کی اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ جہاں ایک ذہنی مریض کے الجھنے پر ہی اسے گولی مار دی جاتی ہے یا وہ اتنے زور آور ہیں کہ وہ اپنے طاقت کا ناجائز استعمال کر کے کسی کو بھی کہی پر بھی گولی مار دی جاتی ہے۔ اگر یہ وہ کے پی کے کی مثالی پولیس ہے تو پر ان کا اللہ ہی خافظ ہے اگر ذہنی معذوروں کے ساتھ اسطرح کا سلوک کیا جاتا ہے تو پر عوام کو یا تو سڑکوں پر پھرنا ہی نہیں چاہیں اور اگر بھر بھی کسی اشد ضرورت کے تحت نکلے بھی تو وار زون کی طرح ایسے پھونک پھونک کر قدم رکھا جائے کہ یہاں ہر طرف بارودی سرنگ بچھے ہیں اور ہم مردان کے بجائے عراق یا افغانستان کے وار زون میں پھر رہے ہیں جہاں ہر وقت کسی جانب سے قانون کے محافظوں کی گولی اپ کا تعاقب کر سکتی ہے۔ براہ کرم عوام اب حکومتی عہدیداروں سے التجا کریں کہ ان محافظوں کو نفسیاتی علاج کی اشد ضرورت ہے اور ان کو برداشت کے لیول کے اس حد تک لے کر جانا چاہیے کہ وہ اتنی تمیز سیکھ جائے کہ اگلا بندہ جب تک غیر مسلحہ ہے اور وہ اپ کو مارنے کے لئے اپروچ نا کرے تو گولی سر میں نہیں بلکہ ٹانگ پر ماری جائے۔ مردان میں کم سنائی دینے والے غیر محفوظ، مرگی کا دورہ پڑنے والا حافظ قران عالم غیر محفوظ تو قوت سماعت اور باشعور کے بارے میں تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اب ذرا تھوڑی دیر کے لئے اس باپ کے بارے میں سوچیے جب اس کے انکھوں کے سامنے اس کا بیٹا بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہو اور وہ خون میں لت پت اپنی آخری سانسیں پوری کر رہا ہو اور باپ سوائے چیخوں کے کچھ بھی نہیں کر سکتا ہو، اس ماں کے بارے میں سوچیں کے اس پر کیا گزری ہو گی جس اس کے خواب اسوقت چکنا چور ہوئے ہونگے جب اس کے جوان بیٹے کی میت اس کے گھر کی دہلیز پر ہو گی اب سیدھی سی بات کہ ان قانوں کے محافظوں کو کون سمجھائے کہ انصاف کی بڑھکے مارنے سے انصاف نہیں ہوتا بلکہ انصاف دکھائی دینا چاہیے اور یہ ہمارے معاشرے کی اولین ضرورت ہے۔

Comment Box is loading comments...

Make up Tip of the day

Using Small plates are Helping lose belly fat

Cooking Tip of the day

Aaloo Chaps (Potato Chaps)