تازہ ترین

News Detail

سخاکوت مي عوامي نيشنل پارټي کا طاقت کامظاهره،ځيدر هوتي سميت دوسرے رهنما کا خطاب

ملاکنڈایجنسی (ولایت خان باچہ /نمائندہ خصوصی) سابق وزیر اعلیٰ اور عوامی نشنل پارٹی کے صوبائی صدر آمیر حیدر خان ہوتی نے سخاکوٹ ریلوے سٹیشن میں ایک بڑے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے حکومت میں پختون قوم رسوا ہو رہی ہے کیونکہ عمران نیازی کی پارٹی نے دلفریب نعروں سے ووٹ پختونوں سے لیا اور اب وہ سیاست پنجاب کی کر رہے ہے اور ہمیں طعنے دے رہے ہیں کہ اے این پی پر عوام کا اعتماد ختم ہو گیا ہے لیکن آنے والے انتخابات میں صوبے کے غیور پختون عمران نیازی سے 2013کے انتخابات کا حساب لیں گے اور انہیں کلین بولڈ

کرتے ہوئے واپس بنی گالہ پہنچائینگے ۔ حکومت آج 70کروڑ ڈالرز سے زیادہ مقروض ہوچکی ہے اور حکومتی ایم پی ایز بھی کچکول اُٹھا کر صوبے اور پشاور کے ترقی اور صفائی کے لئے چندے مانگ رہے ہیں ۔ورکرز کنونشن سے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک ، ضلعی صدر شفیع اﷲ خان ، جنرل سیکرٹری اعجاز علی خان ، تحصیل صدر مسافر خان اور ضلعی سیکرٹری اطلاعات چےئرمین وی سی سخاکوٹ ساجد حسین مشوانی نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر پشتو کے ممتاز شاعر ڈاکٹر عبد الخالق زیار کے وفات پر فاتحہ خوانی کی گئی اور انہیں زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا ۔

صوبائی صدر آمیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ ساڑھے تین سال میں کسی بھی بیرونی سرمایہ کار کی خیبر پختونخواہ نہ آنا در اصل عمران خان اور اس کے صوبائی حکومت پربیرونی ممالک اور عوام کے عدم اعتماد کا مُنہ بولتا ثبوت ہے ۔ صوبائی حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے صوبے میں ترقی کا عمل رُک گیا ہے اور قومی خزانہ خالی ہو چکا ہے ۔ قرضو ں سے صوبہ چلانے والے پرویز خان خٹک اپنے لیڈر کو خفہ نہیں کرسکتے جبکہ عمران خان پنجاب کو خفہ نہیں کرنا چاہتا اس لئے سی پیک معاملے پر قوم سے جھوٹ بول کر دھوکہ دیا جارہا ہے ۔ ہم پر اعتماد کے خاتمے کی باتیں کرنے والوں کا یہ حال ہے کہ ساڑھے تین سال میں کوئی بیرونی سرمایہ کار خیبر پختونخواہ نہیں آیا جبکہ صوبے کے اندر ہمارے شرو ع کئے گئے ترقیاتی منصوبے بھی بند ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قرضوں کا سہارا لیکر ایکسپریس وے بنانے سے تبدیلی نہیں آسکتی ۔آمیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ اگر عمران خان وزیر اعظم بننے کے لئے پختونوں کے ووٹوں کو بھی بھول گیا ہے اور پنجاب کو خوش کرنے کے لئے سیاست کر رہے ہیں اس لئے ہم انہیں کہتے ہیں کہ آپ پنجاب کی سیاست کریں جبکہ ہم پختونوں کے حقوق کے لئے ہر موڑ اور پلیٹ فارم پر لڑتے رہیں گے اور 2018 کے انتخابات میں پختون قوم عمران نیازی کو آوٹ کرکے بنی گالہ کا راستہ دکھائینگے کیونکہ صوبے کے پختون عمران خانی نہیں بلکہ باچہ خانی چاہتے ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے وزیر اعلیٰ پرویز خان خٹک کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ پرویز خان خٹک سی پی جیسے اہم ایشو پر بھی عوام سے جھوٹ بول رہے ہیں اور پرانے منصوبوں کا مطالبہ کرکے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں فلاں فلاں منصوبوں کی منطوری ہو چکی ہے حالانکہ یہی منصوبے عالمی بینک اور ایشین بینک نے پہلے شروع کئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پرویز خان خٹک اپنے آقا عمران خان کو خفہ نہیں کرنا چاہتا جبکہ عمران خان پنجاب کو خفہ نہیں کرسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی حال رہا تو چند مہینے بعد صوبے کے سرکاری ملازمین کے لئے تنخواہیں بھی نہیں ہونگے اور یہی وجہ ہے کہ آج صوبے میں سرکاری ملازمین ، آساتذہ ، ڈاکٹرز ، وکلاء ، تاجر سب پریشان ہیں ۔آج نا اہل حکمرانوں کی وجہ سے صوبے کے خزانے کا حال بھی وزیر اعلیٰ کے صحت کی طرح ہے جو سہاروں پر چل رہے ہے اور غریب ملازمین کی جی پی فنڈز اور پنشن فنڈز سے تقریبأ 17ارب روپے قرض لیکر صوبے کا نظام چلایا جارہا ہے اور دعوے کر رہے ہیں ہم نے سوات ایکسپریس بنایا ہے حالانکہ قرضوں سے تبدیلی نہیں آتی ۔انہوں نے کہا کہ حقیقی تبدیلی ہم نے لائی ہے کیونکہ سابقہ تمام حکومتوں نے مل کر صرف 9یونیورسٹیاں بنائیں تھیں جبکہ ہم نے پانچ سالوں میں 10یونیورسٹیاں بنائے ہیں ۔ لڑکیوں کے لئے 46نئے کالجز اور ہائیرسیکنڈری سکولز اپنے وسائل سے بنائیں ہیں جبکہ موجودہ حکومت قرضوں کا سہارا لیکر اونچے اونچے دعوے کر رہے

ہیں۔ہم نے اسلام آباد سے اپنے صوبے کا حق لیکر صوبے کے عوام پر خرچ کیا ہے اور صوبے کے عوام کا ان کی شناخت دلائی ہے جبکہ بجلی کے آمدنی کا حصہ اور این ایف سی ایوارڈ سے صوبے کے ترقیاتی بجٹ میں مثبت اضافہ ہوگیا ہے جبکہ بائیزئی ایریگیشن چینل ، ٹیکنیکل کالجز سے عوام کی ترقی میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بائیزئی چینل سے ملاکنڈ ڈویژن کا بی 10ہزار جریب سے زیادہ آراضی کو فائدہ پہنچا ہے ۔ سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخواہ کا حصہ بنا نے کے فیصلے کی مکمل حمایت کرینگے اوراپنے قبائلی بھائیوں کو کسی صورت اکیلا نہیں چھوڑیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کو خیبر پختونخواہ کا حصہ بنانے سے قومی اسمبلی میں صوبے کی نشستیں بڑھ جائینگے اور وسائل میں اضافہ ہوگا جبکہ مردم شماری سے خیبر پختونخواہ ملک کا دوسرا بڑا صوبہ بن جائیگا اس لئے 2018کے الیکشن سے قبل فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں شامل کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام نے آمن و آمان کے لئے بیش بہا قربانیاں دئیے ہیں اس لئے 2017میں پہلا جلسہ ملاکنڈ میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اُمید رکھتاہوں کہ آنے والے انتخابات میں ملاکنڈ کے عوام اے این پی کو کامیاب کرکے صوبے میں حکومت بنانے میں مدد کرینگے ۔

صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے اپنے خطاب میں کہا کہ ناچ گانوں سے تبدیلی اور آمن نہیں آتی بلکہ یہ اے این پی کے قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج پی ٹی آئی بھی کھلے عام سیاست کرسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے ٹھیکیداروں کا اصل مقصد اسلام نہیں بلکہ اسلام آباد ہے جبکہ ایک جماعت تو ہر حکومت میں بالکل فٹ ہوجاتی ہے جس سے ان کے اسلام سے محبت کا ثبوت

ملتا ہے ۔ ملاکنڈایجنسی (ولایت خان باچہ /نمائندہ خصوصی) ولایت خان باچہ

Comment Box is loading comments...

Make up Tip of the day

Using Small plates are Helping lose belly fat

Cooking Tip of the day

Aaloo Chaps (Potato Chaps)