تازہ ترین

News Detail

پی ٹی ائی کا نہ کوئی پاوں ہے نہ کوئی سرا اور نہ کوئی اصول ہے اور ہر جگہ یہ لوگ ناکام مولانا فضل الرحمان نے مزيد کيا کها ؟؟؟؟

جمیعت علماء اسلام کے مرکزی سربراہ مولانہ فضل الرحمن نے کہا ہے کہ سانحہ کوئٹہ پر وزیر داخلہ سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے پی ٹی ائی خیبر پختونخوا میں ناقص کارکردگی پر کیوں مستعفی نہیں ہورہا ہے اور خیبر لیکس سکینڈل کیوں چھپاکر اسے ہائی کورٹ میں نہیں لایا گیا۔
چارسده ميڼ ميډيا سے باتي کرتے هوئے انهو نے کها که حطے میں پایئدار امن کے قیام کیلئے پڑوسی ملک افغانستان کیساتھ باہمی اعتماد پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔نیشنل ایکشن پلان میں مزید توسع کے حق میں نہیں ہے۔پانامہ لیکس بالآحر انجام کو پہنچ جایئگا تاہم عوام کو پتہ نہیں چلے گا۔ کہ پانام لیکس کیا ہے انہوں نے کورٹ چارسدہ میں شیخ القران والحدیث مولانامطلع الانور(فاضل دیوبند ہند)کے فاتحہ خوانی کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ۔انہوں نے مولانا مطلع الانور کے دینی ،علمی اور قومی خدمات پر زبردست الفاظ میں حراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دین کا جو شمع منور کیا تھا اور پوری حطے میں اسلام اور روخانیت کی روشنی پھیلائی اور کہا کہ انکا نظریہ ،عقیدہ اور نصب العین ہماریے لیے مشغل راہ ہے۔انہون نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر روز اول سے اپنے تخفظات رکھتے ہیں اور اصولی طور پر جے یو ائی اسمیں مذید توسیع یا ترامیم کے حق میں نہیں ہے کیونکہ اسمیں مذہب ،فرقہ اور حاص طبقہ کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور اسکی کارکردگی بھی انصاف پر مبنی نہیں ہے اور بہت سے بے گناہوں کو بغیر تحقیق اور تفتیش کے پھانسیوں پر لٹکایئے انہوں نے سانحہ کویئٹہ پر وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے کمیشن رپورٹ آنے پر مستفعی ہونے کے مطالبے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی ائی خیبر پختونخوا میں اپنی ناکامی پر مستفعی کیو ں نہیں ہوتے اور کہا کہ پی ٹی ائی کے صوبائی حکومت خیبر لیکس سکینڈل پر ہائی کورٹ یا سپرئم کورٹ کیوں نہیں لایا۔بلکہ اسے چھپا کر رکھا گیا اور کہا کہ پی ٹی ائی کا نہ کوئی پاوں ہے نہ کوئی سرا اور نہ کوئی اصول ہے اور ہر جگہ یہ لوگ ناکام اور سوائے شور شرابے کے علاوہ انکے کوئی سیاست نہیں ہے۔پاک افغان تعلقات کے متعلق انہوں نے بتایا کہ نہ صرف افغانستان اور پاکستان بلکہ پوری حظے میں باہمی اعتماد کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ افغانستان کی آزادی اور خودمحتاری خود سوالیہ نشان ہے اور افغان حکومت کے متعلق کٹھ پتلی کا تصور پایا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کو پاکستان کے بجائے اپنی داخلی استحکام پر توجہ دینی کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کے مسلے کو زمہ دارانہ طور پر حل کرنا چاہتے ہیں اور مہاجر بھایؤں کے عزت اور اخترام کا حیال رکھتے ہیں۔کیونکہ افغان بھایؤں کیساتھ ہمارے قومی مذہبی ،خونی اور ثقافتی رشتے ہیں اور انکے ساتھ محبت اور اخوت رکھتے ہیں اور پاک افغان کے بہتر تعلقات کے خواہ ہاں ہیں

Comment Box is loading comments...

Make up Tip of the day

Using Small plates are Helping lose belly fat

Cooking Tip of the day

Aaloo Chaps (Potato Chaps)