تازہ ترین

News Detail

kahin mujhe badnaam he na bana de movie review

واللہ میرا ہر فلم کے لیئے یہ کہنا کہ "سال کی بڑی اور دلفریب و دلچسپ فلم" کہی مجھے بدنام ہی نہ بنا دے ، لیکن فیر ہر فلم کے اخیر میں دل سے ہی رابطہ کر کے یہ لفظ لکھتا ہوں کہ جو دیکھتا اور سمجھتا ہوں وہی کہنے کا قائل ہوں، معذرت جن کو یہ لفظ تنگ کرتے ہوں۔یہ سب شاید اس لیئے ہے کہ میں نے اپنے اندر کے بچے کو کبھی بڑا نہیں ہونے دیا اور یہی میری زندگی کی خوبصورتی ہے۔ آؤ پیار دی پینگاں چھولیے، تے انج چھولیئے کہ ایک دوسرے وچ پیار ہور مضبوط ہو جاوے، جناب گلزار صاحب بول گئے کہ ، لکیریں ہیں تو رہنے دو کسی نے روٹھ کر غصے میں شاید کھینچ دی تھیں لکیریں ہیں تو رہنے دو۔۔۔ ابھی مہینہ دو مہینہ پہلے کی بات ہے اسی گروپ میں فلم "رب دا ریڈیو" کا بڑا چرچا ہوا، فلم واقعی کمال تھی، اُسی رائٹر اور اداکار کی یہ فلم "سردار محمد" بھی "رب دا ریڈیو" سے بڑا کر ہے۔ ایک بڑا پیغام لیئے۔ گماں نہیں تھا کہ پنجابی سینما سال 2017 کو اتنے خوبصورت لمحات کے ساتھ الوداع کرے گا ۔ فلم: سردار محمد ریٹنگ: 8.2 دورانیہ:140 منٹ فلم کی کہانی "سردار محمد" کے گرد گھومتی ہے جس کو انڈین پنجاب کی سیکھ فیملی نے ہندوستان کی تقسیم کے وقت فسادات (وہ فسادات کہ جن میں بندہ بندے کو جانور وں کی طرح مار رہا تھا ، دھرم کے نام پر انسانیت کا خون ہو رہا تھا ، ایک ٹرین اُدھر سے کٹ کر آ رہی تھی اور ایک ادھر سے کٹ کر جا رہی تھی)جن کے دوران کہی راستے سے اٹھا کر گود لیا تھا، پھر یہی سردار محمد پل پل ایک ان جانا خواب دیکھتا ہے جو اُس کو بے چین رکھتا ہے ،ایک تڑپ دیتا رہتا ہے (اور جلد اس حقیقت کو جان جاتا ہے کہ ،کی سردار تے کی محمد، سبھی اس خدا دے بنائے ہوئے انسان نے اور پھر اسی سبق کو خود یاد کر کے ذات پات کے گھن چکر کو ختم کرنے کا درس دیتا ہے)، پھر ایک دن اُس کو اپنی حقیقت کا علم ہو جاتا ہے کہ وہ یہاں کا نہیں ، وہ سرحد پار اپنے ماں باپ کو ڈھونڈنے نکلتا ہے ، کیسے ؟ یہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ (اسی حوالے سے فلم "پیاسا" دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے) فلم کا پہلا حصہ بہترین عکس بندی اور مضبوط اسکرین پلئے سے کافی پر کشش اور سنجیدہ رہا کہ بار بار میں حیرانگی میں کھوتا گیا، یہ ایک فلم کا واقعی ہی حقیقی لطف ہے کہ وہ آپ کو اپنے اندر سمو لے۔ اُسی رنگ و روپ اور ادا میں جو "رب دا ریڈیو" میں تھا ، ترسیم جیسر اُسی ادا سے اس فلم میں جلوا گر ہوا، اس بندے/ہیرو/رائٹر کی خوبصورتی اور مہارت یہ ہے کہ اپنی فلم کی کہانی اور اسکرین پلیے خود ہی لکھتا ہے اور پھر خود ہی اُس کو فلماتا ہے اپنے آپ پر کہ فلم ایک شہکار کا روپ دھار لیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کی پہلی فلم "رب دا ریڈیو" ہٹ ہوئی اور یہ "سردار محمد " اُس سے بھی زیادہ ہٹ ہوئی۔ مت گمان کیجیے گا کہ میں نے سب کچھ بتا دیا ، فلم شروع ہے اپنے دوسرے ہاف میں ہوتی ہے، جہاں ایسے بڑھیا ڈائیلاگز سننے کو ملیں گے کہ کل کی چھٹی اور دسمبر کے آخری دن یاد گیر بن جائے گے۔ ضرور دیکھیں وہ احباب جو غیر پنجابی ہیں یا جن کے تقسیم کے زخم ابھی بھی ہرے ہیں کہ کیسےاُن کے بزرگ ابھی بھی پل پل دوریوں اور اونچی اونچی دیواروں کی سختی کو محسوس کر رہے ہیں جو کسی نے غصے میں آکر کھینچ دی تھی۔ مطلع کیجیے گا اپنی آرا سے۔ جیتے رہیں ، خوش رہیں۔ رب راکھا، (نوٹ: کُتب بینی اور فلم بینی پر میں ہمیشہ زور دیتا ہوں، کہ میں نے ان دو چیزوں سے وہ کچھ سمیٹ لیا جس کے لئے لوگ بوڑھے ہو جاتے ہیں

Comment Box is loading comments...

Make up Tip of the day

Using Small plates are Helping lose belly fat

Cooking Tip of the day

Aaloo Chaps (Potato Chaps)