تازہ ترین

News Detail

Dunkirk movie review

ڈَن-کِرَک Dunkirk آئی. ایم. بی. ڈی ریٹنگ 8.3 ڈائریکٹر - کہانی نویس : کرسٹوفر نولین انٹر اسٹالر کے بعد نولین کا ٢٠١٧ کا ایک اور شاہکار ڈنکرک منظر عام پر آیا ہے. فلم کا موضوع دوسری جنگ عظیم کا وہ حصہ ہے جسے تاریخ میں جنگِ فرانس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے. ڈنکرک فرانس کا ایک ساحلی شہر ہے جہاں اتحادی افواج کے (برطانیہ، فرانس اور بیلجیئم) کے تقریباً چار لاکھ سپاہی موجود تھے. جرمن افواج نے شہر کا محاصرہ کرکے اتحادی افواج کے تمام زمینی راستے مسدود کردیئے تھے جبکہ ہوائی اور سمندری راستوں پہ جرمن فضائیہ کی سخت پہرے داری تھی. ایسے حالات میں لاکھوں سپاہیوں کا انخلاء بے حد ضروری تھا لیکن جیسے ہی کوئی بحری بیڑہ لنگر انداز ہوتا جرمن فضائیہ کے طیارے اس پہ بمباری کرکے سمندر برد کردیتے. جب برطانوی نیوی اس آپریشن میں ہر بار ناکامی کا سامنا کرتی ہے تو عام شہری اپنی ذاتی کشتیوں اور چھوٹے جہازوں پہ سوار اپنے سپاہیوں کو مدد کو ڈنکرک کے ساحل پہ پہنچتے ہیں. نولین کی لکھی اس کہانی پہ روسی اور فرانسیسی فلمی نقادوں نے تنقید کی ہے لیکن ہم بات کریں گے نولین کی ڈائریکشن پر ہے. فلم کے ابتدائی تین منٹوں میں ڈائریکٹر فلم بین کو یہ سمجھانے میں کامیاب ہوجاتا ہے کہ جنگ کس قدر خوفناک ہوتی ہے. یہ فلم دوسری فلموں سے ایک طرح سے مختلف ہے کیونکہ اس میں اداکاری سے زیادہ سچویشن ایکسپریشن بیان کرتی ہے. کیمرہ ورک کی بات کریں تو جس طریقے سے جنگی طیاروں کی آمد بیان کی جاتی ہے وہ دیکھنے والے کو دہشت زدہ کردیتی ہے، ایسے میں فلم کا ساؤنڈ اسکور جنگی ماحول کے اور قریب لے جاتا ہے. سیونگ پرائیوٹ ریان کے بعد ڈنکرک ایک ایسی فلم ہے جو جنگ کے جزئیات بیان کرتی ہے. ڈنکرک ٹوٹتی اور بنتی امیدوں کی کہانی ہے. جہاں جنگ جیتنے سے زیادہ ضروری جان بچانا ہو ڈنکرک اسی قصے کا بیان ہے. مایوسی اور خوف کے اندھیروں کو مات دینے کی کہانی ہے. سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ جب فوج کی کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو اسے عوام ہی پار لگاتے ہیں. ڈنکرک ایک معجزہ تھا جو عام شہریوں کی کوششوں کی وجہ سے وقوع پذیر ہوا

Comment Box is loading comments...

Make up Tip of the day

Using Small plates are Helping lose belly fat

Cooking Tip of the day

Aaloo Chaps (Potato Chaps)