تازہ ترین

News Detail

Tiger zinda hai movie team interview

"ٹائیگر زندہ ہے" کے ہدایتکار اور رائٹر علی عباس ظفر سے انٹرویو 2011ء میں آئی فلم 'میرے برادر کی دلہن' سے ہدایت کاری کے میدان میں قدم رکھنے والی علی عباس ظفر 2014ء میں ریلیز ہوئی 'غنڈے' سے بالی ووڈ کا ایک معروف نام بن چکے تھے۔ 2016ء میں سلمان خان اور انوشکا شرما کی اداکاری سے سجی فلم 'سلطان' نے انہیں معتبر بھی بنا دیا تھا۔ امسال علی عباس ظفر 'ایک تھا ٹائیگر' کے سیکوئیل 'ٹائیگر زندہ ہے' کی شوٹنگ میں مصروف رہے جو اب ریلیز کی دہلیز پر ہے۔ اس ضمن میں ان سے کی گئی گفتگو کے اقتسابات قارئین کی دلچسپی کیلئے پیش ہیں۔ سوال : 'ٹائیگر زندہ ہے' کی کہانی کن حالات کا احاطہ کرتی ہے۔ علی عباس ظفر : جب سلطان کی شوٹنگ چل رہی تھی ان دنوں عراق میں کچھ ہندوستانی نرسیں پھنس گئی تھیں جنہیں بعد میں ہندوستان لایا گیا تھا، اس واقعے سے متاثر ہوکر میں نے ایک فنکش لکھا تھا جس پر "ٹائیگر زندہ ہے" بنائی گئی ہے۔ سلطان کی تکمیل کے بعد ادتیہ چوپڑا نے مجھ سے پوچھا کہ اب آپ کونسے پروجیکٹ پر کام کریں گے تو میں نے اپنی لکھی ہوئی اسکرپٹ انہیں پیش کردی اور کہا کہ کہ میرے دل سے بہت قریب ہے۔ اس وقت وہ معاملہ پوری دنیا میں گونجا تھا۔ ادتیہ سر، سلمان اور کترینہ کو کہانی بہت پسند آئی تھی۔ ہمارے پاس ٹائیگر اور زویا کے کردار پہلے سے موجود تھے جس کی وجہ سے اسکرپٹ مزید مضبوط ہوگئی تھی۔ س : "ٹائیگر زندہ ہے" سے آپ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ ج : چونکہ عراق میں ہندوستانی نرسیں پھنسی ہوئی تھیں جو ہر ہندوستانی کیلئے ایک دکھ کی بات تھی بلکہ ہر انسان کے لئے یہ تکلیف کی بات ہوگی کہ کچھ خواتین ایسے حالات میں پھنس گئی ہیں۔ اس فلم سے ہم نے حب الوطنی اور انسانیت کے پیغام دیا ہے۔ اس فلم میں ہم نے بتانے کی کوشش کی ہے کہ جو کام دیگر ممالک کی خفیہ ایجنسیاں کرسکتی ہیں وہ ہماری را بھی کرسکتی ہے۔ س : فلم میں سلمان اور قطرینہ کی کیمسٹری کیسی رہی ہے؟ جواب : یہ کوئی پہلی فلم نہیں ہے جس میں سلمان اور کترینہ ایک ساتھ نظر آرہے ہوں، اور سلمان بھائی کسی کو آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ لیں تو ایسا لگتا ہے کہ انہیں سچ مچ کا پیار ہوگیا ہو، سلطان کی ہی مثال لے لیں جس میں سلمان اور انوشکا کی کیمسٹری کافی اچھی نکل کر آئی تھی، اور کترینہ تو خوبصورت ہیں ہی، اس کے علاوہ وہ دونوں ایک عرصے سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں، یہ تو لازمی بات ہے کہ دونوں کی کیمسٹری اچھی ہوگی۔ س : ایک خبر یہ تھی کہ اس فلم میں سلمان پہلی بار بوس کنار کرتے نظر آئینگے، اس میں کہاں تک صداقت ہے؟ ج : یہ غلط نیوز ہے جو نہ جانے کہاں سے اڑی ہے، یہ چیزیں نہ کبھی میں نے فلموں میں شامل کی ہے اور نہ ہی سلمان نے کبھی کیا ہے تو ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک ساتھ دونوں ہی اپنے اصولوں مکر جائیں، ہمارا ماننا ہے کہ ہم ایسی فلمیں بنائیں جسے ایک مشرقی فیمیلی ساتھ میں بیٹھ کر دیکھ سکے اور اس میں ایسا کچھ نہ ہو جسے ہم اپنے بزرگوں کے ساتھ دیکھنا پسند نہ کریں۔ س : سیکوئل بنانا رسکی محسوس نہیں ہوا جبکہ عموماً سمجھا جاتا ہے کہ سیکیوئل فلمیں کامیاب نہیں ہوتیں۔ ج : (قہقہ لگاتے ہوئے) گول مال تو کامیاب ہوئی ہے۔ باہو بلی بھی کامیاب ہوئی ہے۔ ویسے یہ حقیقت ہے کہ ڈر تو لگتا ہے، ڈر تو کافی لگتا ہے کیونکہ ایک بڑے بجٹ کی فلم ہے، سال کی آخری فلم ہے اور اس سال بہت کم فلمیں کامیاب ہوئی ہیں، لیکن یہ سب ہمارا مسئلہ نہیں ہے یہ پروڈیوسر کا مسئلہ ہے، ہم صرف یہ کرسکتے ہیں کہ اپنا بہترین کام ناظرین کے سامنے پیش کرسکیں، اور کام بہترین ہو تو وہ باکس آفس پر اپنے آپ کامیاب ہوتا ہے۔ س : فلم میں ایکشن کس طرح کا پیش کیا گیا ہے؟ ج : ایکشن میں کوشش یہ کی گئی ہے کہ سلمان خان کو سوپر مین کی طرح نہ دکھایا جائے، اس فلم میں سلمان کے گھونسوں سے لوگ اڑتے نظر نہیں آئینگے، ہم نے حقیقت سے قریب تر ایکشن پیش کیا ہے۔ چونکہ فلم کی لوکیشن جنگ زدہ عراق کی ہے تو ان حالات میں مدنظر رکھ کر ہم نے ایکشن مناظر فلمبند کئے ہیں۔ س : جنگ زدہ ماحول کو پیش کرنے میں کیا دشواریاں پیش آئی ہیں؟ ج : ہم نے موراکو اور یو اے ای میں زیادہ تر شوٹنگ کی ہے جہاں گرمی بہت زیادہ تھی۔ جو یونٹ کے ممبران پر بھی اثر انداز ہوئی تھی۔ س : سلمان کو ہینڈل کرنا آپ کے لئے کتنا آسان اور کتنا مشکل تھا؟ ج : دیکھئے پیار سے سے سلمان کو ہینڈل کرنا بہت آسان ہے۔ اس بار کافی کم دقتیں پیش آئی ہیں کیونکہ سلمان کے ساتھ میں سلطان کرچکا تھا اور ہمارے درمیان انڈراسٹینڈنگ اچھی تھی، سیکوئل ہونے کی سبب وہ اسکرپٹ اور اپنے کردار کے ساتھ اچھی طرح سے ایڈجسٹ تھے ہمارے لئے کام کرنا بہت آسان ہوگیا تھا۔ اس کے علاوہ سلمان نے فلم میں ایک ایجنٹ کا کردار ادا کیا ہے جس کیلئے ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے اس کے اثرات شوٹنگ کے دوران سلمان کی شخصیت پر نظر آئے ہیں۔ س : فلم میں سلمان را کے ایجنٹ ہیں، ہندوستانی نرسیں عراق میں پھنسی ہیں تو اس میں پاکستانی ایجنٹ کے روپ میں قطرینہ کا کیا کردار ہے؟ ج : پاکستانی ایجنٹ ہندوستانی نرسوں کیلئے کیا کررہی ہے اس کا جواب میں فلم کی ریلیز سے قبل نہیں دے سکتا، جو فلم کی کہانی ہے جو مورال ہے وہ یہ ہے کہ صحیح اور غلط کے تصادم میں جیت ہمیشہ سچائی اور انسانیت کی ہی ہوگی۔ اور انسانیت مذہب ملک سے بالاتر ہے، آپ جو جواب چاہتے ہیں وہ یہ کہ فلم پولیٹیکل بالکل بھی نہیں ہے، اس کے علاوہ آپ سلطان دیکھیں تو وہ پوری فلم سلمان کے اطراف میں موجود لوگوں پر محیط تھی، جب کہ ٹائیگر زندہ ہے ایک گلوبل اسٹوری ہے۔ یہ ایک ایسے ملک کی کہانی ہے جو بکھر رہا ہے اور اس کے درمیان دور دراز کے ایک دیش کی لڑکیاں پھنس گئی ہیں۔ تو سب سے پہلے ناظرین کو اس ملک کی حالت سمجھنی ہوگی جو ہماری اسکرپٹ کی لوکیشن ہے۔ اس کے بعد ہی آپ اپنے کرداروں کو متعارف کراسکیں گے۔ س : آپ نے ایک ایجنٹ کو پیش کرنے کیلئے کتنی ریسرچ کی ہے، اور کیا ذاتی طور پر کسی ایجنٹ سے اس سلسلے میں ملاقات کی گئی تھی؟ ج : میں نے اور میری ایکشن ٹیم نے اس سلسلے میں کافی ریسرچ کیا ہے۔ ہم نے ان افراد سے بات کی تھی جن سے یہ معلوم ہوسکے کہ ایک ایجنٹ کام کس طرح سے کرتا ہے، اس کے علاوہ ان ایجنٹس کی جانب سے لکھی گئی بہت سی کتابیں دستیاب ہیں کہ موساد، آئی ایس آئی، را اور سی آئی کیسے کام کرتے ہیں، جب ہم کسی ایک فرد سے ملاقات کریں تو ہمیں صرف ایک پوائنٹ آف ویو معلوم ہوتا ہے، لیکن جب آپ مختلف لوگوں کو پڑھتے ہیں تو آپ کے پاس تمام رخ موجود ہوتے ہیں۔ اس لیے ہم نے اسٹڈی پر زیادہ فوکس کیا تھا۔ س : ٹریلر میں سلمان کے مقابل جو ویلن بتایا جارہا ہے وہ عوامی توجہ سمیٹ رہا ہے اسے فلم میں کیا سوچ کر شامل کیا گیا ہے؟ ج : ویلن کے روپ میں سجاد دلپذیر فلم کا بہت اہم کردار ہے اور کوشش یہ کی گئی کہ ایک ایسا کریکٹر پیش کیا جائے جو اس سے قبل بالی ووڈ میں نظر نہیں آیا ہو، اس فلم میں جو ویلن ہے اس کی کوئی ہسٹری ناظرین کے اذہان پر نہیں ہے، اس سے قبل اسے پردے پر دیکھا نہیں گیا ہے جس سے فلم مزید فریش ہوجاتی ہے۔ سجاد مشرق وسطی سے ہے اور وہ کردار میں بالکل فٹ بیٹھتا ہے، ہم نے مڈل ایسٹ سے ویلن کے کردار کا انتخاب اس لئے کیا ہے کہ اس کے لہجے میں ہندی سنیما کے ناظرین کیلئے ایک اجنبیت ہو، جس سے ناظر کو یہ احساس ہو کہ وہ جس جگہ بیٹھا ہے وہ ہندوستان نہیں ہے۔ س : یش راج کے ایک ہی فلور پر دو بڑی فلمیں ایک ساتھ بن رہی تھیں، ایک طرف سلمان ہیں تو دوسری طرف عامرخان اور امیتابھ بچن ہیں، کیا یہاں مقابلہ آرائی کا ماحول ہوتا تھا؟ ج : یش راج کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ درون خانہ ہماری زبردست مقابلہ آرائی ہوتی ہے لیکن یہ مثبت ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے ہمارا کام نکھرتا ہے اور ہم ایکدوسرے کے ساتھ معاونت کرتے ہیں لیکن مقابلہ آرائی رہتی ہے۔ س : آخری سوال یہ کہ ایک ہدایتکار کی حیثیت سے انڈسٹری نے آپ کو سب سے بڑا سبق کیا دیا ہے؟ ج : انڈسٹری میں سب سے بڑا سبق یہ ملا ہے کہ کامیابی ملے تو سر جھکا لو اور ناکامی ملے تو مزید محنت کرو۔

Comment Box is loading comments...

Make up Tip of the day

Using Small plates are Helping lose belly fat

Cooking Tip of the day

Aaloo Chaps (Potato Chaps)