تازہ ترین

News Detail

The Debate review

The Debate. Movie: Inception Christophir Nolan. .............. "کیا انسیپشن فلم کے اینڈ میں کوب (ہیرو-ڈی کیپریو) حقیقت میں اپنے بچوں کے پاس امریکہ پہنچا تھا یا وہ آخری سین بھی ایک "خواب" ہی تھا؟ یہ وہ سوال ہے جو پچھلے سات سالوں میں فلمی مبصرین اور ناظرین کے درمیان مختلف بلاگز۔۔انٹرویوز۔۔مضامین اور سوشل میڈیا میں زیر بحث رہا۔۔۔یہ سوال کرسٹوفرنولن کی ماڈرن کلاسک سائنس فکشن فلم "انسپیشن" کے اینڈ سے متعلق ہے۔۔ اس سوال کے متعلق میں کچھ نہایت دلچسپ باتیں اور بتاوں گا۔۔۔ لیکن پہلے فلم اور اس سے بھی پہلے اس فلم کے جادوگر فلم میکر کرسٹو فرنولن کے بارے میں کچھ بتانا چاہوں گا جو آپ کے لئے دلچسپی کا باعث ہوں گی۔ کرسٹو فر نولن انگلش فلم ڈائریکٹر ہے۔۔۔1998 میں پہلی فلم بنانے سے لے کر اب تک اس نے صرف نو فلمیں بنائیں۔۔۔ اس کی بنائی گئی ہر فلم نے "سپر ہٹ" کا خطاب حاصل کیا۔۔ اس کی نو فلموں نے کل ملا کر 4.22 بلین ڈالرز کا بزنس کیا۔۔جو دنیائے فلم کی سب سے زیادہ آمدنی کرنے والے فلم میکرز میں چھٹے نمبر پر ہے۔۔۔اور یہ دنیائے فلم نگری کا سب سے زیادہ کامیاب ڈائریکٹر کہلاتا ہے۔کیونکہ اس کے کیرئیر میں اب تک ایک بھی فلاپ فلم نہیں ہے۔۔۔ یہ دنیا کاایسا واحد فلم میکر ہے جس نے آرٹسٹک طرز پر ایسی فلمیں بنائی جنہوں نے کمرشل سینما جتنا بزنس کر کے فلمی بزنس گرووں کو حیران کردیا۔ اور اسکی تمام فلموں کو حیران کن طور پر بیک وقت "کریٹکس" نے بھی سراہا اور کمرشل سینما کے ناظرین نے بھی۔ "انسیپشن" بھی ایسی ہی سائنس فکشن فلم ہے جسے آپ "حیرت کدہ" کہہ لیں یا "عجوبہ" یہ فلم نولن نے خود ہی لکھی اور خود ہی ڈائریکٹ کی۔ 160 ملین ڈالر سے بنے والی اس فلم نے 800 ملین سے زائد کا بزنس کیا۔۔۔اور سینما ٹوگرافی۔۔ساونڈ مکسنگ اینڈ ایڈیٹنگ اور۔۔ویزیول ایفیکٹس میں آسکر ایوارڈ اپنے نام کئے۔ ۔۔۔۔۔۔ فلم کہانی: انسیپشن کی کہانی کو سمجھنا پڑتا ہے۔ سادہ سے انداز میں بات کروں کہ فلم کی کہانی کیا ہے؟ تو سنئے "فلم کی کہانی ایسے چوروں کے بارے میں ہے جو دوسرے انسانوں کے خوابوں میں گھس کر ان کے لاشعور سے ان کے "آئیڈیاز" چوری کرتے ہیں" لیکن یہ بات اتنی سادہ ہے نہیں۔۔۔ "لوسڈ ڈریمز" انسانی کے خوابوں کی ایک قسم ہے جس میں انسان خواب دیکھتے ہوئے اتنا ہوشیار ہوتا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ وہ خواب دیکھ رہا ہے اور وہ اپنے خواب میں کئی تبدیلیاں کرسکتا ہے یہ فلم بھی ایسے خوابوں کے متعلق ہے۔۔ کئی انسانوں کے دماغوں کو خاص طرح کی ٹیٹ ورکنگ سے جوڑ کر ایک مشترکہ "خوابوں کی دنیا" بسانے کا آئیڈیا "ملٹری" کا تھا۔۔ فوج اپنے جوانوں کو ایسی خوابوں کی دنیا میں لے جاکر تربیت کرتی اور جنگی مشقیں کرواتی۔۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا کہ خوابوں کی دنیا میں فوجی زخمی ہوجائے تو اس کے اصلی وجود کو مسئلہ نہ ہوتا۔۔ اور خواب میں مرجانے والا ۔۔۔زیادہ سے زیادہ حقیقی دنیا میں جاگ اٹھتا تھا۔۔۔ ملٹری کی اس ایجاد کا غلط استعمال شروع ہوا جب کچھ لوگ نہایت اہم لوگوں کے خوابوں میں گھس کر ان کے آئیڈیاز چرانے لگے۔۔ دنیا کے شاطر ترین چوروں میں اپنا ہیرو کوب یعنی ڈی کیپریو اور اس کی ٹیم بھی شامل ہے۔ یہ اس فلم کی کہانی کا بیک گراونڈ ہے فلم کے شروع میں ایک جاپانی کھرب پتی "کوب" کو ایک آفر دیتا ہے۔۔ کہ اگر کوب اس کے لئے ایک کام کردے تو وہ کوب کی کرمنل ہسٹری ختم کروا کراس کے وطن امریکہ پہنچا سکتا ہے جہاں کوب کے دو بچے رہتے ہیں اور جہاں سے وہ اس الزام کی وجہ سے فرار ہوا تھا کہ اس نے اپنی بیوی کا قتل کردیا تھا لیکن جاپانی کھرب پتی "کوب" کو کسی کے خواب سے کچھ چوری کرنے کو نہیں کہتا۔۔ بلکہ وہ کہتا ہے کہ اگر تم کسی کے لاشعور میں گھس کر اسکے آئیڈیاز چرا سکتے ہو تو تم وہاں ایک نیا آئیڈیا پلانٹ بھی کرسکتے ہو۔۔ اسی چیز کا نام "انسیپشن" ہے۔ کوب کےساتھی کہتے ہیں کہ انسیپشن ناممکن حد تک مشکل ہے ہے۔۔لیکن کوب جانتا ہے کہ یہ ممکن ہے۔۔ کیونکہ اس نے ایسا اپنی بیوی کے ساتھ کیا تھا۔۔ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ خوابوں کی ایک حسین دنیا میں کئی سال گزارے تھے۔۔۔اور اس کے بعد جب حقیقی دنیا میں واپسی کا قصد کیا تو اس کی بیوی واپس نہیں آنا چاہتی تھی۔۔تب اس نے اپنی بیوی کے لاشعور میں یہ بات بٹھا دی کہ "یہ دنیا حقیقی نہیں ہے۔۔یہ خواب ہے ہمیں واپس جانا ہوگا"۔ اس کی بیوی راضی ہوگئی۔۔لیکن حقیقی دنیا میں لوٹنے کے بعد اس کی بیوی کے ذہن میں اتارا گیا وہ آئیڈیا ختم نہ ہوسکا۔۔بلکہ وہ آئیڈیا مزید طاقتور ہوگیا۔۔اور میل یعنی کوب کی بیوی حقیقی دنیا کو ہی خواب سمجھتی رہی۔۔ بالآخر اس نے یہ سوچ کر خود کشی کرلی کہ "یہ حقیق دنیا نہیں بلکہ خواب ہے" اس بات کا کوب کو بہت قلق تھا جاپانی کھرب پتی چاہتا تھا کہ کوب اور اس کی ٹیم اس کے ایک بزنس حریف کے ذہن میں یہ آئیڈیا پلانٹ کرے کہ "اسے اپنا بزنس تباہ کردے" چنانچہ یہاں سے ایک زبردست کہانی کا آغاز ہوتا ہے جس میں اس امریکن بزنس مین کو خوابوں کی دنیا میں لاکر اس کے ذہن میں انسیپشن کا کھیل شروع کیا جاتا ہے اور اس دوران کمال کے ایکشن سیکوئنسز اور ٹوئسٹ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ فلم کے اختتام پر آتے ہیں۔۔ کوب اپنے گھر پہنچ جاتا ہے۔۔۔ اس نے یہ جاننے کے لئے کہ وہ خواب نہیں حقیقت میں اپنے گھر آیا ہے ۔۔ اپنا ٹوپ (پھرکی) نکال کر میز پر گھمایا۔۔ (یہ ایک طریقہ تھا۔۔رئیلٹی اور ڈریم ورلڈ کے درمیان فرق کرنے کا۔۔۔ کہ ٹوپ اگر رک کر گر جاتا تو مطلب وہ اصلی دنیا میں ہے لیکن اگر وہ یونہی گھومتا رہتا تو مطلب وہ خواب میں ہے) ٹوپ گھوم رہا ہے۔۔لیکن تبھی کوب کو اس کے بچے نظر آتے ہیں تو وہ ان کی طرف بھاگ جاتا ہے۔۔ کیمرہ گھومتے ہوئے ٹوپ کو فریم میں لیتا ہے۔۔ دیکھنے والے انتظار کرتے ہیں کہ ٹوپ رک کر گرے گا تو کوب کے ساتھ ساتھ فلم کا اینڈ بھی ہوجائے گا۔۔ لیکن گھومتی ہوئے ٹوپ پر اچانک سیاہ پردہ چھا جاتا ہے اور فلم ختم۔ اور فلم دیکھنے والا اپنے آپ سے پوچھتا رہ جاتا ہے کہ یہ کیا ہوا؟۔۔۔ فلم ختم ہوگئی؟۔۔ یا فلم شروع ہوگئی ہے؟؟ اینڈ اصل میں ہوا کیا؟ اور یہیں وہ سوال اٹھا ہے جو 2010 سے آج تک ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے "کیا کوب حقیقی دنیا میں پہنچا یا وہ خواب ہی تھا؟؟ اس سوال کے جواب پر میڈیا۔۔سوشل میڈیا پر بہت ساری ڈسکشن ہوئی اور لوگوں نے نت نئے ثبوت اور دلائل پیش کئے۔۔۔۔ اوپر سے جب کرسٹوفر نولن سے ایک انٹرویو میں پوچھا گیا کہ انسیپشن کے اینڈ میں کیا ہوا تھا؟ تو اس نے کہا یہ میں نے دیکھنے والوں پر چھوڑ دیا ہے۔۔اور یہ بھی کہ اس میں کافی سارے ہنٹس موجود ہیں۔۔دیکھنے والے خود ہی سمجھ جائیں گے۔ اب سیکنڑوں فلم بینوں نے مختلف نتائج برآمد کئے۔۔جو بہت دلچسپ ہیں۔۔ مثلا ہالی وڈ کے ایک فلمی مبصر کا کہنا تھا کہ یہ ساری فلم ہی ایک خواب پر مشتمل ہے۔۔اینڈ بھی۔ جبکہ ایک میگزین کے مطابق۔۔۔ کوب اینڈ سے زرا پہلے "کوما" میں جاتا ہے۔۔جاپانی کھرب پتی کو لانے۔۔ وہ وہاں سے واپس نہیں آتا۔۔لہذہ پلین میں جاگ اٹھنا اور امریکہ پہنچنا اس کے کوما کے دوران کا ایک خواب ہی ہے۔ ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ کیمرہ کلوز ہونے سے پہلے گھومتی ہوئی پھرکی لڑکھڑائی تھی (اور واقعی ایسا بھی ہے۔۔غور سے دیکھیں تو نظر آتا ہے)۔۔ مطلب وہ گرنے والی تھی۔۔جس کا مطلب کوب یعنی ڈی کیپریو اصلی دنیا میں پہنچ گیا تھا۔۔ اسی طرح بہت سے لوگوں نے بہت سے دلائل دئیے ۔۔لیکن ایک نوجوان نے سب سے بہترین ثبوت پیش کیا۔۔ اس نے بتایا۔۔ کہ فلم میں کوب کی بیوی حقیقی دنیا میں مرچکی تھی لیکن خوابوں کی دنیا میں زندہ تھی۔۔ فلم میں غور سے دیکھو تو آپ کو نظر آئے گا کوب جب خواب کی دنیا میں ہوتا ہے تو اس کی انگلی میں وینڈنگ رنگ ہوتی ہے۔۔حقیقی دنیا میں نہیں ہوتی۔۔۔ اور فلم کے آخری سین میں کوب کی خالی انگلی یہ ثبوت ہے کہ وہ حقیقی دنیا میں پہنچ گیا تھا اس طرح کچھ نے کہا کہ فلم خوابوں کے متعلق ہے تو اینڈ بھی خواب ہی تھا۔۔ "امریکہ اپنے بچوں کے پاس جانا کوب کا خواب تھا۔۔۔جو آخر تک خواب ہی رہا" لیکن ان ساری ڈسکشن سے کوئی ایک نتیجہ نہیں نکل سکا۔۔جس پر سب متفق ہوجائیں۔۔۔۔ یہی سوال میں اپنے پڑھنے والوں سے پوچھتا ہوں جنہوں نے یہ فلم دیکھی۔۔اور اس کے ساتھ چند سوال اور بھی۔۔تاکہ ہماری ڈسکشن سے کچھ نئے پہلو واضح ہوں۔

Comment Box is loading comments...

Make up Tip of the day

Using Small plates are Helping lose belly fat

Cooking Tip of the day

Aaloo Chaps (Potato Chaps)