تازہ ترین

News Detail

Simran movie full review

ایک فلم کو بہتر طریقے سے دیکھا اور محسوس تبھی کیا جا سکتا ہے جب آپ کو مکمل "یکسوئی" میسر ہو ۔آپ فلم دیکھنے سے پہلے فلم کو اچھی طرح سوچیں، اُس کو اپنے دماغ میں گھمایئے، تھوڑا ڈریکٹر اور ایکٹرز کا بہتر Taste ڈویلپ کیجیے، اریب قریب کی Disturbing کو Pause کر دیجیے، اماں کو دہی اور بیوی کو بچے واسطے پیمپرز پہلے ہی لا کر دے دیجیے ، جب یہ سب کام کر لیں پھر لیپ ٹاپ پر فلم دیکھنا شروع کیجیے ، یقین مانیئے بور سے بور فلم بھی آپ دیکھنے میں کامیاب ہو جائے گے اور اُس کو سہی معانوں میں انجوائے بھی کریں گے، ورنہ لیکن ایک اچھی خاصی ہٹ فلم بھی آپ کے لئے دنیا کے سب سے بڑی بور اور بے کار فلم بن سکتی ہے۔تو خلوت کو اپنا پہلا ٹاسک بنا لیں کسی بھی فلم کو دیکھنے واسطے :) ۔ شاہ رخ و عا مر خاں، سلمان خاںوعرفان خان ، اکشے کمار و رنبیر کپور ، ارجن و رنویر اور فرحان اختر کے ہوتے ہوئے ایک مردانہ راج کرتی انڈسٹری پر کنگنا آتی ہے اور چھا جاتی ہے، تنوں ویڈ منو سے سے ایک تھرل ٹائپ کا بہتر اسٹارٹ ملنے کے بعد ، کوئین میں باغی فطرت کو لیئے ، شرمیلی مسکراہٹ، چنچل لب کشائی، غصیلی اور جذباتی لمحات کو رونے دھونے کی بہترین ایکٹنگ میں کنورٹ کرنے والی اب تن تنہا اپنی فلم کرتی ہے، کسی بڑے نام کی ضرورت کو پیچھے چھوڑ کر ایک مردانہ انا کو بہت پیچھے دھکیلتی ہوئی کنگنا، جسٹ کنگنا، پنجرا توڑ کے، توڑ کے اُڑ جانا ہے، باھیں کھول کے، کھول کے اُڑ جانا ہے فلم ایک ایسی نان سینس لڑکی کی کہانی ہے ، جسے بنیادی رسم و رواج کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی ، جسے ابا کی اور ابا کے سماج کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی، جسے اُڑ جانا پسند ہے بے سمت راہوں پر، جسے توں تڑاں کر کے بات کرنا پسند ہے ، جسے اپنی جمعہ پونجی کو انویسٹ کرنا نہیں آتا اور پھر اسی پاگل پن اور مد حوشی کے دنوں میں امریکہ جیسے کمرشل ملک میں (جہاں کہتے ہیں سانس لینے کے بھی پیسے دینے پڑتے ہیں )اپنی ساری جمعہ پونجی جوئےBaccarat(Masood Malikصاحب اس کھیل بارے کوئی تفصیل کہ بڑی تیزی سے پیسہ کمایا یا اڑایا جاتا ہے کھیل کے دوران )میں ہار جاتی ہے بلکہ مقروض ہو جاتی ہے اور پھر ایک اُس قرض کو واپس کرنے کے لیئے ایک پاگل پن والی سٹرگل جو معاشرے میں کیری نہیں کی جاسکتی کرتی ہے۔ اس دوران سمرن تھرل بھری ایکٹنگ سے ناظرین کے دل جیت لیتی ہے اور یہ تسلسل اخیر تک چلتا ہے۔ اوئے اوئے اوئے سمرن، علیحدہ سی سمرن، او نا جانے تو چلی رے کہاں، اوئے اوئے اوئے سمرن، اُڑ اُڑ اُڑ سمرن، او نا جانے تو چلی رے کہاں آ آ فلم میں کچھ ایسی ہی ان ہونیاں ہوتی رہیے گی اس سب میں کہانی تلاش مت کیجیے گا ، بس معاشرتی الجھنوں کو دیکھیے گا اور جانیے گا ، کہ ماں باپ اور اولاد میں Communication Gap کس حد تک بڑتا جا رہا ہے، بچے اپنی ضد پر اور بڑے اپنی انا پر قائم اور اسی اثنا ء میں بچے ماں باپ سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور خاندان سمیت معاشرت بڑی بے بسی محسوس کر رہی ہے۔پرانی اور نئی ثقافت میں ٹکر کا مقابلہ ہے اور چل بھی رہا ہے اگر ہم ذرا اپنے اڑوس پڑوس بھی غور کریں تو بہت سے ایسے Cases مل جائیں گے۔ ڈرایکٹر Hansal Mehta کا ودھیا سا شکریہ کہ ایک اچھی لو کیسشن پر ایک اچھی فلم دی، یاد رہے میٹھا صاحب اس سے پہلے علیگڑھ، سٹی لائٹ اور شاہد جیسی بڑی فلمیں دے چکے، کاپی پیسٹ سے ہٹ کر بہتر میوزک/ سانگز منتخب کیئے گیئے، جو ایک رومینس والی فلم نہ ہونے کے باوجود بھی آپ کا فلم میں دل لگایئے رکھتے ہیں اور خمخواہ ہی آپ گانے سنتے سنتے رومینس میں چلیں جاتے ہیں۔ فلم کا ایک لمحہ (یاد رہے ایک لمحہ 90 سیکنڈ کا ہوتا ہے) بھی آپ کو بور نہیں ہونے دے گا اور بہت سے تنقیدی نقاط فلم بارے نظر آنا بند ہو جائیں گے کنگنا کی جاندار ایکٹنگ سے۔ فلم دیکھنے کے بعد حیرانگی یہ ہوئی کہ یہ فلم پِٹ کیوں گئی؟ کنگنا کے باغی کریکٹر سے میں بڑا انسپائر ہوا تھا ، میرے خیال سے ہر انسان کو کچھ جینے کے لیئے ایسا ہی لائف اسٹائل چاہیئے، کنگنا کے کریکٹر سے ہی میں نے اپنی سہمی ہوئی اور دبی ہوئی فطرت کو وہ پرواز دی کہ میں نے بھی اُڑنا دیکھ لیا /سیکھ لیا ????، کنگنا والی زندگی جی تو نہیں رہا لیکن محسوس ضرور کر رہا ہوں ۔ آپ کی رائے کا انتظار رہے گا ۔

Comment Box is loading comments...

Make up Tip of the day

Using Small plates are Helping lose belly fat

Cooking Tip of the day

Aaloo Chaps (Potato Chaps)